تعلیمی اداروں اور تعلیمی نظام کی بہتری کےلیے نفسیاتی و سماجی خدمات

 

 

تعلیمی معاونت کا شعبہ

 

 

سکون کے تعلیمی امداد کے شعبے کا مقصد تعلیمی اداروں اور تعلیمی نظام کو ایک خاص نفسیاتی و سماجی طریقہ کار سے بہتر بنانا ہے۔

 

 
 

یہ شعبہ تعلیمی اداروں کو مختلف ضروری اور مفید خدمات پیش کرتے ہوئے انھیں ان کے مقاصد کی تکمیل میں مدد فراہم کرتا ہے۔ ان خدمات میں سے چند بلامعاوضہ پیش کی جاتی ہیں۔ 

 
 
 
تعلیم برائے نفسیاتی و سماجی نشونما

Education for Psychosocial Growth (EPG)

 

ہمارے تعلیمی اداروں میں دی جانے والی تعلیم کو صرف اور صرف نصابی سرگرمیوں تک ہی محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس کی مدد سے طلباء و طالبات کو اس قابل بنانا چاہیے کہ وہ خود کو ایک نفسیاتی و سماجی دائرہ کار میں رہتے ہوئے سمجھ سکیں اور اپنی ذات کی آگاہی کے بعد حقوق العباد کے فروغ کی طرف توجہ دیں۔

سکون کا "تعلیم برائے نفسیاتی و سماجی نشونما" کاپروگرام تعلیمی اداروں یعنی سکولوں ، کالجوں، یونیورسٹیوں وغیرہ کو اپنے اداروں میں مختلف نفسیاتی و سماجی سرگرمیاں شامل کرنے پر اصرار کرتا ہے تاکہ ان اداروں میں زیر تعلیم طلباء و طالبات کو  نصابی تعلیم کے ساتھ ساتھ بہترین نفسیاتی و سماجی تربیت بھی مل سکے۔ سکون کا یہ پروگرام بہت سی نفسیاتی تکنیکوں کا مجموعہ ہے اور اس کی مدد سے تعلیمی ادارے نہ صرف اپنے طلباء و طالبات کو بہترین تربیت و تفریح فراہم کرتے ہیں بلکہ اپنی نصابی سرگرمیوں میں بھی مثالی نتائج حاصل کرتے ہیں۔

 

پروگرام کی سرگرمیاں

 

 

سکون کے نفسیاتی و سماجی نشونما کے بروگرام میں اب تک درج ذیل سرگرمیاں پیش کی جارہی ہیں

 

بچوں ، اساتذہ اور والدین کے ساتھ نفسیاتی مشاورت

اکثر دیکھا جاتا ہے کہ ایک ہی کلاس میں ایک ہی عمر کے بعض بچے تعلیمی سرگرمیوں کی طرف دوسرے بچوں کی نسبت زیادہ توجہ دیتے ہیں اور بعض دوسرے بچے محض اپنے والدین کی سختی کی وجہ سے بے دلی سے کلاس میں تعلیم حاصل کرنے کی فقط کوشش کرتے رہتے ہیں۔ بیشتر اوقات یہ بچے اساتذہ اور والدین دونوں کے لیے مشکلات کا باعث بنتے ہیں۔ اس قسم کے بچوں کی تعلیم کی طرف عدم دلچسپی کی کئی نفسیاتی و سماجی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ سکون انھیں وجوہات کا نفسیاتی انداز سے پتہ لگانے کے لیے اس قسم کے بچوں ، ان کے اساتذہ اور ان کے والدین کے ساتھ نفسیاتی مشاورت کرتا ہے اور ان بچوں کو بھی اپنی عمر اور کلاس کے دوسرے بچوں کی طرح تعلیمی اور تعمیری سرگرمیوں میں آگے بڑھنے کے لیے نفسیاتی طریقوں کی مدد سے تیار کرتا ہے۔

 

ذہنی صلاحیتوں کا نفسیاتی تجزیہ

تعلیم حاصل کرنا مکمل طور پر ایک ذہنی عمل ہے۔ وہ طلباء و طالبات جو اپنے ذہن کو درست اور زیادہ استعمال کرتے ہیں ، نصابی سرگرمیوں میں سرخرو ہوتے ہیں۔ تاہم بیشتر طلباء و طالبات کو ان کے اذہان کے بھر پور استعمال کا موقع نہیں ملتا جس کی وجہ ان کا نفسیاتی و سماجی ماحول ہوتا ہے۔ سکون طلباء و طالبات کی متعدد ذہنی صلاحیتوں ، شخصیت، عادات، رجحانات، رویوں اور دلچسپیوں کا نفسیاتی طریقہ کار سے تجزیہ کرتا ہے تاکہ اگر کوئی کمی محسوس ہو تو اسے نفسیاتی طریقوں ہی کی مدد سے دور کیا جاسکے۔ ان نفسیاتی ٹسٹوں کے ساتھ ساتھ سکون ان طلباء و طالبات کے لیے خصوصی نفسیاتی ٹسٹ بھی کرتا ہے جنھوں نے یا تو کسی مضمون کا انتخاب کرنا ہوتا ہے اور یا کسی پیشے کا۔ اسطرح طلباء و طالبات اپنی اندرونی نفسیاتی خواہشات اور رجحانات کے مطابق اپنے لیے مضامین اور پیشوں کا انتخاب عمل میں لاتے ہیں۔

 

حقوق العباد کی تعلیم

تمام فلسفیوں، مذہبی دانشوروں اور اقوام متحدہ کے اصولوں کے مطابق تعلیم کا اولین ترین اور اعلی ترین مقصد یہ ہے کہ تعلیم کے زریعے شاگردوں کو اس قابل بنایا جائے کہ وہ معاشرے میں دوسرے انسانوں کا ادب کریں اور ان کی مدد کریں تاکہ پر امن معاشرے کا قیام ممکن ہو سکے۔ آجکل کے موجودہ دور میں تو اس مقصد کو سامنے رکھنا اور بھی ناگزیر ہو گیا ہے۔ اکثر دیکھنے میں یہی آتا ہے کہ تعلیم یافتہ لوگ زیادہ چالاک ہوتے ہیں اور اپنی ذہنی صلاحیتوں اور تعلیمی قابلیت کو منفی اور خود غرض مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ یہاں زبان کی یہ سختی اگر کسی کو زیادہ محسوس ہو تو اپنے اردگرد کے لوگوں کا تقابلی جائزہ کرکے اس مفروضے پر تحقیق کرسکتا ہے۔ ہمارا مشاہدہ اور تجربہ ہمیں یہی بتا تا ہے کہ  دیہات میں بسنے والے سادہ لوح افراد نہ صرف ایک دوسرے کے دکھ درد میں برابر کے شریک ہوتے ہیں بلکہ ان میں ایثار و قربانی اور اجتماعیت کا جذبہ بھی زیادہ دیکھنے میں آتا ہے۔ سکون کی یہ کوشش رہتی ہے کہ نو عمر طلباء و طالبات کو بچپن اور نوجوانی ہی سے انسانی حقوق کی تعلیم دی جائے تاکہ وہ معاشرے کی جامعیت کو سمجھ سکیں اور دوسروں کے لیے پر امن اور بے ضرر ہوں۔ سکون کا اعلی ترین مقصد معاشرے میں نفسیاتی و سماجی امن کا قیام ہے۔

 

صحت و صفائی کی تعلیم

ہمارے جدید ترین شہروں میں پڑھے لکھے لوگوں کے علاقوں میں گندگی کے جابجا ڈھیر اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہیں کہ افراد اس کے نتائج سے بے خبر ہیں اور انھیں اس مسئلے کی سنجیدگی اور اس سے پیدا ہونے والے جسمانی اور نفسیاتی مسائل کا ادراک نہیں ہے۔ سکون اس سلسلے میں بھی نوجوانوں ہی سے یہ امید رکھتا ہے کہ وہ ایسے نئے رجحانات کو معاشرے میں فروغ دیں جن کی بدولت ہمارے معاشرے سے غیر صحت مندانہ رویوں کا خاتمہ ہو سکے اور ہمیں اپنے گرد و پیش اچھے لگنے لگیں۔ ہم باہر کے ممالک کو سراہنے کے بجائے اپنے ہی ملک کی خوبصورتی کے دعویدار بن سکیں۔ سکون کا نفسیاتی و سماجی نشونما کا یہ پروگرام طلباء و طالبات کو نہ صرف صحت و صفائی کی بنیادی تعلیم فراہم کرتا ہے بلکہ ان میں اس امر کا خیال رکھنے کا جذبہ بھی پروان چڑھاتا ہے۔

 

تفریحی سرگرمیاں

تفریح تعلیم کے حصول میں ایک نمایاں مقام رکھتی ہے۔ ہمارے بہت سے تعلیمی اداروں میں تفریح کے لیے کچھ وقت تو مختص کر دیا جاتا ہے مگر یہ ہرگز نہیں دیکھا جاتا کہ بچے جس قسم کی تفریح کر رہے ہیں اس سے ان کی ذہنی صلاحیتوں کو کس حد تک تقویت مل رہی ہے۔ تفریح کو صرف جسمانی صحت کے لیے ضروری سمجھنا ایک بڑی غلطی ہے۔ سکون اپنے اس پروگرام میں طلباء و طالبات کے لیے دو سو سے زائد ایسے کھیل پیش کرتا ہے جو مختلف بچوں کی عمر کے اعتبار سے ان کی دلچسپی کے عین مطابق ہوتے ہیں اور ان کی جسمانی صحت کے ساتھ ساتھ ان کی ذہنی نشونما پر بھی مثبت اثرات چھوڑتے ہیں۔ مزیدبرآں سکون اس بات پر بھی زور دیتا ہے کہ بچوں کی تفریح بڑوں کی نگرانی میں ہو۔ عمومی تفریحی سرگرمیوں کے علاوہ سکون اپنے اس پروگرام میں ماہ وار تفریحی میلوں کا بھی انعقاد کرتا ہے جس میں بہت سے بچوں کو پہلی بار اپنے والدین اور اساتذہ کے ساتھ مل کر کھیلنے کا موقع نصیب ہوتا ہے اور ان کے باہمی تعلقات میں بے تکلفی اور اپنائیت کی فضاء پیدا ہوتی ہے۔

 

خدمت خلق اور رضاکارنہ جذبوں کی افزائش

حقوق العباد کی بنیادی تعلیم کے ساتھ ساتھ سکون طلباء و طالبات کو مختلف ایسی عملی سرگرمیوں میں بھی شریک کرتا ہے جن سے ان میں خدمت خلق اور رضاکارنہ جذبے کو تقویت ملے۔ یہ سرگرمیاں بچوں کی عمر اور ماحول کے مطابق تیار کی جاتی ہیں جن میں چھوٹے بچوں کے لیے سکولوں کے اندر اور نوجوانوں کے لیے اداروں سے باہر کی جانے والی سرگرمیاں شامل ہیں۔

 

اساتذہ کی تربیت

اساتذہ کے لیے چونکہ نفسیاتی طور پر ضروری ہوتا ہے کہ وہ اپنی محنت اور جانفشانی کا مظاہرہ کرنے کے لیے بچوں کی نصابی سرگرمیوں میں تمام ممکنہ طریقوں سے بچوں کی کارکردگی بہتر بنائیں۔ مزید برآں بچوں کی تعداد کی زیادتی اور وقت کی کمی انھیں غیر نصابی سرگرمیوں کی طرف جانے سے روکتی ہے۔ سکون اساتذہ کو بھی مختلف نفسیاتی طریقوں کے زریعے نصابی سرگرمیوں کے لیے ایک نظام وضع کرنے کے طریقے سکھاتا ہے تاکہ کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ نتائج حاصل کیے جاسکیں۔  اس کے علاوہ سکون کی دو روزہ تربیتی ورکشاپ 'شفقت بھری تدریس' بھی اساتذہ کے لیے بہت مفید ثابت ہوتی ہے۔

  

 
 

 تعلیمی اداروں کے بیرونی اور اندرونی منظر اور ساکھ کو بہتر بنانا 

 

تعلیمی اداروں کی ترقی میں ان کی عمارت اور ماحول کا خوبصورت اور تعلیمی سرگرمیوں کے لیے موزوں ہونا انتہائی اہمیت رکھتا ہے اور طالب علموں کی تعلیمی کارکردگی پر بھی مثبت اثرات مرتب کرتا ہے۔ کسی تعلیمی ادارے میں نئے طالب علموں کی دلچسپی بھی اسی وقت ہو سکتی ہے جب کہ اس ادارے میں زیر تعلیم طالب علم اپنے ادارے سے مکمل طور پر مطمئن ہوں۔ دوسری طرف، ادارے کی موثر تشہیربھی ادارے کی مقبولیت کا باعث بنتی ہے۔ سکون کا تعلیمی معاونت کا شعبہ تعلیمی اداروں کے اندرونی اور بیرونی منظر اور ماحول کو بہتر انداز سے خوبصورت اور تعلیمی سرگرمیوں کے قابل بنانے کے لیے فوری اور مفید تبدیلیاں عمل میں لاتا ہے۔ ان تبدیلیوں میں چند درج ذیل ہیں

تعلیمی اداروں کی اندرونی اور بیرونی عمارت میں مختلف بینر اور پوسٹر وغیرہ لگانا جن پر موثر تعلیمی مواد کی موجودگی نہ صرف ادارے کی خوبصورتی کا باعث بنتی ہے بلکہ طالب علموں کے تعلیمی شوق اور ذوق میں بھی اضافہ کرتی ہے۔

تعلیمی ادارے کی جانب سے شہر میں مختلف مقامات پر تعلیمی اقوال اور موثر تحریروں کی نمائش، لوگوں میں مختلف ترویجی مواد کی تقسیم اور ایک بڑے سیمینار کے انعقاد وغیرہ سے تعلیمی ادارے کی ساکھ کو بہتر بنایا جاتا ہے۔ 

 

 
 

تعلیمی اداروں کے اندر بہتر تعلیمی معیار کو یقینی بنانے کے لیے ایک مستقل شعبہ کا قیام

 

سکون کا تعلیمی معاونت کا شعبہ اس بات سے بخوبی آگاہ ہے کہ ہمارے تعلیمی اداروں میں رائج تعلیمی سرگرمیاں صرف نصاب تک ہی محدود رہتی ہیں اور ان میں کسی طرح کی جدت نہیں لائی جاتی۔ ہم بحیثیت قوم بھی اس بات کا ادراک کر چکے ہیں کہ ہمارے تعلیمی نصاب میں فوری اور جدید تبدیلیوں کی شدید ضرورت ہے۔ سکون تعلیمی نظام میں فوری دخل اندازی اور تبدیلی کو ایک مشکل کام سمجھتا ہے تاہم تعلیمی اداروں میں ایک مستقل شعبہ کا قیام عمل میں لانا چاہتا ہے جو اس ادارے میں رائج تمام تر سرگرمیوں کا تنقیدی جائزہ لیتے ہوئے انھیں جدید ضروریات سے ہم آہنگ کر سکے۔ اس شعبے کے مقاصد درج ذیل ہیں

   تعلیمی ادارے میں رائج تعلیمی نصاب کا تفصیلی جائزہ لینا اور انھیں بہتر بنانا

اساتذہ کی صلاحیتوں کا جائزہ لینا اور انھیں بہتر بنانا

اساتذہ اور شاگردوں کے درمیان تعلقات کا جائزہ لینا اور انھیں بہتر بنانا

کلاس روم اور تدریسی طریقہ کار کا جائزہ لینا اور انھیں بہتر بنانا

طالب علموں کے لیے غیر نصابی سرگرمیوں کو ترتیب دینا

تعلیمی معیار کو بہتر بنانا

 

 

 

اساتذہ کے لیے تربیتی ورکشاپس

 

سکون اساتذہ کے لیے مختلف ایک روزہ ورکشاپس کا بھی انعقاد کرتا ہے ۔ ان ورکشاپس میں سے چند درج ذیل ہیں

شفقت بھری تدریس

انسانی حقوق اور تحفظ پر بنیادی معلومات

بچوں کا تحفظ

بچوں کو انسانی حقوق کی تدریس

بچوں کی نشونما

بچوں کا اشتراک

بچے سے بچے تک معلومات کا تبادلہ

بچوں کے لیے ماحولیاتی تعلیم

منطق اور تعمیری سوچ

 

 
 

تشہیر اور ابلاغ سے مربوط خدمات

 

سکون کا شعبہ ابلاغ و تشہیر کئی ایسی مفید خدمات پیش کرتا ہے جو موجودہ دور میں پیشہ ورانہ اداروں کی ضرورت ہیں اور جن کی مدد سے وہ اپنی کارکردگی کی بہتر انداذ میں ترویج و تشہیر کر سکتے ہیں۔

ان خدمات میں چند درج ذیل ہیں

دستاویزی فلم بندی

اشتہارات سازی اور اشاعت

تشہیری مواد کی تیاری اور اشاعت جس میں رسالے، کتابچے، اعلانیے، سٹکر، بینر اور ویب سائٹ وغیرہ شامل ہیں

تشہری تحائف کی تیاری اور ترسیل

مجالس کا انعقاد

معلوماتی مہم چلانا، وغیرہ

 

Contact: desd@thesukoon.org

                        
 

کیا آپ اپنی مطلوبہ معلومات کے حصول میں کامیاب رہے؟ اس صفحے میں مزید کیا اضافہ کیا جاسکتا ہے؟

آپ اپنی مفید آراء درج ذیل خلاء میں تحریر فرما سکتے ہیں