|
|
|
|
![]() ![]() ![]() ![]() ![]() ![]() |
![]() ![]() ![]() ![]() ![]() |
![]() ![]() ![]() ![]() ![]() |
|
سکون کا تعارف |
|
|
|
|
|
سکون پاکستان کے سوسائیٹیز ایکٹ ۱۸۶۰کے تحت رجسٹرڈ ایک آزاد فلاحی ادارہ ہے جو تمام تر تعصبات سے بالاتر ہو کر رفاح عامہ کے لیے کام کرتا ہے۔ |
| انسانی حقوق کے تحفظ اور فروغ کے لیے سکون کی نفسیاتی و سماجی سرگرمیوں کا تخیل |
|
|
|
سکون کی نظریاتی اساس سکون جان ہر دو عالم آقائے نامدار حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ذات اقدس سے انتہائی متاثر ہے۔ مزید برآں، سکون حضرت ڈاکٹر علامہ محمد اقبال علیہ الرحمہ کے فلسفیانہ نظریات سے بھی انتہائی مرعوب ہے۔ سکون کی بنیاد جناب وقار حسین کے پیش کردہ نظریہ سکون پر رکھی گئی ہے۔ اس فلسفے کی بنیادی روح کے مطابق جو شخص فطرت سے جتنا قریب ہو گا اتنا ہی نفسیاتی عوارض اور سماجی مسائل سے دور ہو گا۔ باالفاظ دیگر جو شخص فطرت سے جتنا دور ہو گا اتنا ہی نفسیاتی اور سماجی مسائل میں گرفتار ہو گا۔ سکون کے مطابق فطرت سے ہر وہ شے مراد ہے جو اللہ نے تخلیق کی ہے اور غیر فطرت سے مراد ہر وہ شے ہے جو انسان نے تخلیق کی ہے۔ سکون فطرت کے مشاہدہ کے لیے حواس ظاہرہ کے ساتھ ساتھ حواس باطنہ کے استعمال پر بھی زور دیتا ہے۔ سکون کا فلسفہ ذہن اور روح کو ایک ہی شے مانتا ہے۔ مزید برآں ذہن کو صرف دماغ تک ہی محدود تصور نہیں کیا جاتا بلکہ اسے سارے بدن کا حصہ مانا جاتا ہے۔ سکون کے اس فلسفے کی رو سے ذہن ایک بار پیدا ہونے کے بعد کبھی نہیں مرتا بلکہ مختلف حالتوں میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ ہمارے موجودہ مشینی دور میں اکثر دیکھنے میں آتا ہے کہ انسان اور مشین میں فرق کم سے کم ہوتا چلا جا رہا ہےاور آدمی اپنے ذہنی اور روحانی ارتقاء کو پس پشت ڈال کر صرف مادی ترقی ہی کو اپنا مطمع نظر سمجھ بیٹھا ہے۔ سکون کے مطابق ہمارے معاشرے میں نفسیاتی اور سماجی مسائل کی دو بڑی وجوہات فطرت سے دوری اور ہوس ہیں۔ سکون کا نظریہ انسان کو فطرت سے قریب تر لانے کے لیے مختلف نفسیاتی طریقے بھی وضع کرتا ہے جن میں نفسیاتی تزکیے اور مشقیں بھی شامل ہیں۔ فلسفئہ سکون پر ہماری ویب سائٹ کا ایک الگ حصہ زیر تعمیر ہے۔
سکون کا خواب سکون ایک ایسے انسانی معاشرے کا خواب دیکھتا ہےجہاں انسانی حقوق کا تحفظ اور پاسداری سکون کے زریعے سے ممکن ہو سکے۔
سکون کا مقصد سکون ہر اس شخص کی نفسیاتی و سماجی مدد کرنا چاہتا ہے جو انسانی حق تلفی کی وجہ سے ذہنی امراض یا نفسیاتی پیچیدگیوں کا شکار ہو یا اسے ان الجھنوں کا خطرہ لاحق ہو۔ نفسیاتی و سماجی مسائل سے بچائو اور تدارک کے ضمن میں سکون متعدد لائحہ عمل ترتیب دے کر اس مقصد کے حصول کی طرف گامزن ہے۔
سکون کی سرگرمیاں سکون اپنی نوعیت کا واحد ادارہ ہے جو نفسیات کے تمام تر موضوعات کا احاطہ کرتے ہوئے انسانی حقوق کی ترویج و فروغ کے لیے سرگرم عمل ہے۔ سکون یعنی سلامتی کے لیے وجدانی نفسیات بذات خود ایک ضابطہ ہے جس پر عمل پیرا ہونے سے بہترین ذہنی صحت کا حصول ممکن ہے۔ اس ضابطہ کی رو سے سادہ ذندگی انسان کو نفسیاتی عوارض سے بچاتی ہے اور دوسرے انسانوں کی عزت و احترام کرنے سے ایک پر امن معاشرہ قائم ہوتا ہے۔ سکون نے لوگوں کی نفسیاتی و سماجی درستگی کے لیے کئی نئی ایجادات کی ہیں جن میں نفسیاتی صحت کا بیمہ، دیہی علاقوں میں نفسیاتی صحت کے فروغ کے لیے لائحہ عمل، تعلیم برائے نفسیاتی و سماجی نشونما، سکون کے نفسیاتی و جذباتی تزکیے اور سکون ٹرپس وغیرہ شامل ہیں۔ مزید تفصیلات جانیے |
|
ادارے کو مزید سمجھنے کے لیے درج ذیل دستاویز کا مطالعہ بھی مفید ہے۔ تاہم اس دستاویز کی انگریزی تحریر زیادہ سہل اور جامع اصطلاحات کی حامل ہے۔ |
|
ذہنی صحت کے فروغ کے لیے سکون کا لائحہ عمل
تعارف یہ لائحہ عمل سکون کی ممکنہ نفسیاتی و سماجی سرگرمیوں کی وضاحت کرتا ہے۔ مزید برآں یہ متعدد مربوط اصطلاحات کی بھی تعریف اور توضیع کرتا ہے تاکہ سکون کے ممکنہ پروگرام سہولت سے بنائے اور چلائے جاسکیں۔
ذہنی صحت یہ ایک عام فہم بات ہے کہ ذہنی صحت کا تعلق ذہن سے ہے ۔ ذہن چونکہ غیر مرئی اور نظر نہ آسکنے والی شے ہے لہذا اس کا مطالعہ میڈیکل سائنس کے اختیار سے ماورا ہے۔ [دماغی امراض سے قطع نظر] ذہنی عوارض اور ان کی وجوہات جسمانی بیماریوں اور ان کی علامات سے بہت مختلف ہیں اور کسی لیبارٹری میں یا مشینوں کے زریعے ان کی تشخیص کرنا ناممکن ہے۔ اب تک ذہنی صحت کی جتنی بھی تعریفیں کی گئی ہیں ان میں جسمانی صحت کے ساتھ نفسیاتی اور سماجی درستگی پر بھی زور دیا گیا ہے مگر عملی سطح پر اکثر دیکھنے میں آتا ہے کہ ذہنی صحت کو جسمانی اور خصوصاً دماغی درستگی تک ہی محدود تصور کیا جاتا ہے اور نفسیاتی اور سماجی درستگی کو یکسر فراموش کر دیا جاتاہے۔ ذہنی صحت اور دماغی امراض کو اس غلط طریقے سے خلط ملط کیا جاتا ہے کہ لوگ یہ سمجھنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ ذہنی مسائل دراصل دماغی مسائل ہی ہیں ، ان میں مبتلا افراد کسی نہ کسی طرح پاگل ہیں یا پاگل پن کے قریب ہیں اور ان مسائل کا حل صرف ماہر امراض دماغی ہی مختلف ادویات اور دیگر طبی طریقوں سے عمل میں لا سکتا ہے۔ سکون کے نزدیک ذہنی صحت کو اس طرح تعبیر کرنا نری جہالت اور خودغرضی ہے۔ سکون کے مطابق ذہنی صحت بنیادی طور پر نفسیاتی درستگی کا نام ہے جس میں جسمانی اور سماجی درستگی بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ بالفاظ دیگر ذہنی صحت کی تعریف کرتے ہوئے نفسیاتی درستگی کو اولین اور جسمانی اور سماجی درستگی کو ثانوی ترجیح دینی چاہیے ۔ مزید برآں، اس بات کو بھی سمجھنا چاہیے کہ نفسیاتی درستگی اور عافیت کا تعلق براہ راست انسانی ضروریات کی خاطر خواہ تکمیل سے اور سماجی عافیت کا رشتہ انسانی حقوق کی پاسداری سے جڑا ہوا ہے۔ان تمام باتوں کے پیش نظر، سکون ذہنی عوارض کو میڈیکل سائنس اور سائیکیٹری سے ماورا اور قدرے غیر متعلق قرار دیتے ہوئے ان کے تدارک اور ان سے بچائو کے لیے نفسیاتی و سماجی طریقوں پر انحصار کرتا ہے۔ دماغی امراض کو بہرحال سکون اپنے دائرہ کار سے خارج کرتے ہوئے انھیں میڈیکل سائںس اور سائیکیٹری کے زمرے میں رکھتا ہے۔
نفسیاتی درستگی انسان کی جسمانی اور سماجی درستگی اس کی نفسیاتی درستگی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ تاہم انسان کی نفسیاتی درستگی سے مراد اس کے ذہن کا درست ہونا اور ذہنی امور کو درستگی سے انجام دینا ہے۔ ذہن چونکہ شعور، تحت الشعور اور لاشعور تینوں کا مرکب ہے لہذا ذہنی صحت سے مراد بھی ذہن کے ان تینوں شعبوں کی درستگی ہے۔ ذہن انسانی کا ہر شعبہ مختلف ضروریات کو پیدا کرتا ہے جن کی خاطر خواہ تکمیل انسان کی اچھی ذہنی صحت کی ضامن ہے اور ان ضروریات کی عدم تکمیل انسان کو ذہنی عوارض میں مبتلا کر تی ہے۔
جسمانی درستگی انسان کی جسمانی درستگی کا تعلق اس کی جسمانی ضروریات کی تکمیل سے ہے۔ جسمانی ضروریات کو خاطر خواہ پورا کرنے سے اچھی جسمانی صحت حاصل ہوتی ہے اور جسمانی ضروریات کو رد کرنے سے انسان مختلف جسمانی امراض میں گرفتار ہوجاتا ہے۔
سماجی درستگی سماجی خیر وعافیت انسان کی سماجی ضروریات کی خاطر خواہ تکمیل سے متعلق ہے جن کی عدم تکمیل مختلف سماجی مسائل کو جنم دیتی ہے۔ یہ سماجی مسائل نفسیاتی عدم درستگی میں بھی اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ انسانی حقوق کی خاطر خواہ پاسداری سے سماجی مسائل سے بچا جا سکتا ہے۔
سکون کی سرگرمیوں کا رخ سکون جسمانی صحت کو ذہنی صحت میں ایک اہم معاون سمجھنے کے باوجود صرف نفسیاتی و سماجی درستگی کے لیے کام کرتا ہے اور اس کا مقصد انسانی حقوق کا تحفظ اور فروغ ہے۔
انسانی حقوق کا تحفظ سکون کے نزدیک انسانی حقوق کا تحفظ دراصل انسانوں کا تحفظ ہے اور اس کی انجام دہی بہت ضروری ہے۔
انسانی حقوق انسانی حقوق سے مراد وہ سماجی طور پر متفقہ انسانی ضروریات ہیں جو تمام انسانوں میں بحیثیت انسان یکساں ہوں اور ان ضروریات کی رسائی معاشرے کے کسی ایک فرد یا افراد کے گروہ کی ذمہ داری تسلیم کی جاتی ہو۔ سکون کا ماننا ہے کہ کسی بھی قانون کی اصل روح کو اس کے متن سے بالاتر سمجھنا چاہیے۔ لہذا انسانی حقوق کے لیے یہ ہرگز ضروری نہیں کہ وہ کسی نہ کسی قانون کے متن میں مزکور ہوں بلکہ حس مشترک، اجتماعی سوچ اور اجتماعی خواہشات کی پاسداری سے ایک ایسے معاشرے کا قیام ممکن ہے جس میں انسانیت اپنی بہترین نشونما پا سکے۔
نفسیاتی و سماجی طریقہ کار چونکہ افراد اور معاشرہ آپس میں لازم و ملزوم ہیں اور ایک کے بغیر دوسرا اپنے مقاصد کی تکمیل میں قاصر ہے لہذا سکون کی تمام سرگرمیاں فرد اور معاشرہ دونوں کے گرد گھومتی ہیں۔ سکون اگر کسی ایک فرد کے لیے کام کرتا ہے تو اس کام سے ہونے والے معاشرتی اثرات کو بھی خاطر میں لاتا ہے اور اگر معاشرے کے لیے کام کرتا ہے تو اس معاشرے کے افراد پر ہونے والے اثرات کو بھی سامنے رکھتے ہوئے کام کرتا ہے۔
نفسیاتی و سماجی مسائل نفسیاتی و سماجی مسائل میں وہ تمام نفسیاتی مسائل شامل ہیں جن میں ایک فرد کسی دوسرے فرد یا افراد کے گروہ کی بدولت مبتلا ہوتا ہے۔ دوسری طرف وہ تمام سماجی مسائل بھی نفسیاتی و سماجی مسائل کے زمرے میں آتے ہیں جو بعد ازاں نفسیاتی مسائل کو جنم دے سکتے ہیں مثلاً فطرت سے دوری، انسانی حقوق کی عدم تکمیل؛ سماجی عدم مساوات /انصاف کا عدم حصول؛ ناروا رسمیں؛ غلط رویے جیسے لالچ، خودغرضی، حسد، غصہ؛ غربت؛ بے روزگاری؛ سماجی عدم تحفظ؛ رشوت اور دھوکہ دہی؛ ماحولیاتی آلودگی؛ غیر ذمہ دارانہ رویے؛ مذہب کی غلط تشریحات اور مذہب اور رسموں کا باہمی اختلاط؛ طرز ذندگی کو بہتر بنانے کے لیے سہولیات کی عدم دستیابی؛ تشدد اور زیادتی؛ صنفی تفریق؛ استحصال؛ بردہ فروشی؛ بچوں سے مشقت کا حصول؛ جبری شادیاں؛ انتہاپسندی اور دہشت گردی وغیرہ شامل ہیں۔
سکون کے مستفیدین سکون کے براہ راست مستفیدین وہ افراد ہیں جو انسانی حقوق کے تلف ہو جانے کی وجہ سے نفسیاتی مسائل کا شکار ہوں یا انھیں ان مسائل کا خطرہ درپیش ہو۔ ان افراد کے نفسیاتی مسائل کی وجوہات جسمانی یا پیدائشی نہ ہوں بلکہ سماجی ہوں۔ سکون کے بالواسطہ مستفیدین میں تمام انسان شامل ہیں کیونکہ ہر شخص کو کسی نہ کسی نفسیاتی مسئلے کا خطرہ ضرور درپیش رہتا ہے اور چونکہ سکون تمام انسانوں کی ذہنی صحت کی بہتری کو فروغ دینے کا خواہشمند ہے۔
سکون کی ذہنی صحت سے متعلق سرگرمیوں کے مقاصد اور ترجیحات سکون اپنے بلند تر مقصد یعنی انسانیت کے لیے نفسیاتی و سمانی امن کے حصول کے لیے مختلف سرگرمیاں اور ترجیحات وضع کرتا ہے جن میں درج زیل قابل ذکر ہیں۔
مالی استحکام سکون کی تمام تر نفسیاتی و سماجی مدد رضاکارانہ بنیادوں پر فراہم کی جاتی ہے۔ چونکہ سکون کے مالی مسائل انتہائی محدود ہیں لہذا ان کو مستحکم کرنا سکون کی اولین ترجیح ہے۔
ذہنی صحت پر معلومات کی ترویج ذہنی صحت کو عموماً جسمانی صحت کے برابر اہمیت نہیں دی جاتی بلکہ اسے ایک غیر اہم مسئلہ سمجھا جاتا ہے۔ ذہنی مسائل کو سماجی تحقیر کا باعث سمجھا جاتا ہے اور ان کے تدارک کو ذلت اور شرمندگی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ ذہنی صحت سے متعلقہ بہت سے غلط رویے اور منفی خیالات جیسے جعلی روحانی پیشوا اور نیم حکیم لوگوں کا کاروبار؛ نفسیاتی مسائل کو قسمت، گناہوں اور شیطان سے موسوم کرنا؛عذاب اور ثواب کی غلط تشریحات؛ نفسیاتی موضوعات پر غیر مستند مواد کی کتابی شکل میں دستیابی، ڈاکٹروں اور سائیکیٹرسٹوں کا نفسیاتی مسائل کے شکار افراد کو ماہر امراض ذہنی تک رسائی فراہم نہ کرنا؛ یہ تمام عوامل ذہنی صحت سے مربوط صورت حال کو مزید خراب بنا دیتے ہیں۔ اس صورت حال میں ذہنی صحت کے بارے میں مستند اور مفید معلومات عوام الناس تک پہنچنا بہت ضروری ہے تاکہ ایک بہتر سماجی تبدیلی عمل میں لائی جاسکے۔ ان معلومات کی ترویج اور فروغ میں وہ تمام رائج طریقے اختیار کیے جانے چاہییں جو عوام تک رسائی کا باعث ہوں جیسے ٹی وی، اخبارات اور رسائل، فکری مکالمے اور مجالس وغیرہ۔
نفسیاتی و سماجی مسائل سے بچائو کے لیے حفاظتی اقدامات احتیاط علاج سے بہتر ہے۔ سکون کی وضع کردہ حفاظتی سرگرمیاں نفسیاتی و سماجی مسائل سے بچائو کا مفید زریعہ ہیں ۔ ان سرگرمیوں میں ذہنی صحت سے متعلق معلومات کی ترویج؛ نفسیاتی و سماجی مسائل پر تحقیق اور قانون سازی؛ انسانی حقوق کے فروغ کے لیے منتخب پراجیکٹس؛ نفسیاتی کیلنکس کا قیام؛ نفسیاتی تزکیے اور علاج معالجہ کی فراہمی؛ نفسیاتی مشاورت؛ سادہ ذندگی گزارنے کی افادیت کا پرچار؛ نفسیاتی صحت کا بیمہ؛ قانونی مشاورت؛ روزگار کی فراہمی اور دوسری تنظیموں کے ساتھ باہمی اشتراک وغیرہ شامل ہیں۔
نفسیاتی و سماجی مسائل کا تدارک نفسیاتی و سماجی مسائل کا تدارک کو جلد سے جلد ممکن بنایا جانا چاہیے۔ سکون اس سلسلے میں ممکنہ طور پر مختلف تدابیر اختیار کر سکتا ہے جن میں ابتدائی نفسیاتی امداد؛ ٹیلی فون پر مشاورت؛ متاثرین کے اہل خانہ کی حوصلہ افزائی اور تربیت؛ نفسیاتی علاج معالجہ؛ اور متاثرین کے زیر کفالت افراد کی نگہداشت وغیرہ شامل ہیں۔
حمایت ذہنی صحت سے متعلقہ مسائل پر معاشرے کی ہر سطح پر آواز بلند کرنی چاہیے۔ اس سلسلے میں خاندان ،علاقائی صوبائی اور قومی حکومتوں، سرکاری اور غیر سرکاری تنظیموں، ڈونر اداروں اور اقوام متحدہ سب کو شامل کرنا چاہیے۔ اس وکالت کا مقصد ذہنی صحت کے درست ادراک اور ذہنی مسائل کے درست تدارک پر عوام الناس اور متعلقہ افراد میں ایک یکساں شعور کی بیداری بھی ہونا چاہیے تاکہ سب مل کر ان مسائل کی اہمیت کو سمجھیں اور انھیں درگزر کرنے سے اجتناب کریں۔
اداروں کو ذہنی صحت کے موضوعات پر رہنمائی اداروں کی سطح پر انسانی حقوق اور ذہنی صحت سے متعلق معلومات تربیتی ورکشاپس کی شکل میں پیش کرنی چاہییں۔ ان اداروں میں بالخصوص ان اداروں کو شامل کیا جانا چاہیے جو ذہنی صحت اور ذہنی مسائل کے حل میں زمہ دار قرار دیے جاتے ہیں۔
تحقیق ذہنی صحت کے موضوعات پر موجود تحقیقی مواد انتہائی ناکافی ہے اور اس میں عام نفسیاتی و سماجی مسائل کی شمولیت بہت کم ہے۔ سکون کے تمام پروگراموں میں تحقیق کی روایت کو فروغ دینا چاہیے۔
قانون سازی پاکستان کی ذہنی صحت کی پالیسی ۱۹۹۷؛ قومی ذہنی صحت کا پروگرام جو ۱۹۸۶ میں شروع کیا گیا؛ اور ذہنی صحت کا آرڈیننس۲۰۰۱ اہم دستاویزات ہیں۔ سکون ان تمام کوششوں کی قدر کرتے ہوئے اس بات پر انتہائی اصرار کرتا ہے کہ نہ صرف پاکستانی بلکہ بین الاقوامی سطح پر تمام موجود اور آئیندہ مرتب کیے جانے والے ذہنی صحت کے قوانین اور دستاویزات میں دماغی امراض اور ان کے حل کے علاوہ نفسیاتی و سماجی مسائل اور ان کے ازالے کے لیے اقدامات بھی شامل کیے جانے چاہییں۔ مزید برآں، ذہنی صحت کی درست تعریف اور درست دائرہ کار کی وضاحت بھی اشد ضروری ہے۔
نفسیاتی و سماجی امن انسانی ضروریات کی خاطر خواہ اور بروقت تکمیل اور انسانی حقوق کی مکمل پاسداری آخر کار ایک ایسے معاشرے کو جنم دے سکتی ہے جہاں نفسیاتی و سماجی امن کا دور دورہ ہو۔ یہی سکون کا انتہائی مقصد ہے۔
|
|
Contact: info@thesukoon.org |
|
|
|
| کیا آپ اپنی مطلوبہ معلومات کے حصول میں کامیاب رہے؟ اس صفحے میں مزید کیا اضافہ کیا جاسکتا ہے؟ آپ اپنی مفید آراء درج ذیل خلاء میں تحریر فرما سکتے ہیں |