|
|
|
It was in 1998, when SUKOON i.e. Sensory and Ultimate Knowledge On Observing Nature was first developed as a Clinical Model for the scientific discipline of Psychology by Mr. Waqar Husain to describe ideas and tools to prevent from and respond to possible psychosocial problems. The model was not only an innovation in the subject but also contributed new psychotherapeutic techniques in Clinical Psychology. Later, Husain did further developments in the theory itself and came up with several philosophical ideas e.g. mind and soul are the same, mind is not necessarily situated within brain, mind exists even before the birth of a human and never dies, etc. The psychosocial elements of the theory thereafter enforced Husain to serve humanity with respect to Mental Health and he founded an organization by the same name i.e. Sukoon in 2006. The organization is intended to sensitize humans to acquire an adequate level of mental health while considering conscious, sub-conscious and unconscious as components of mind and variables for mental health. The organization incorporates Psychology, especially the thoughts of SUKOON, into all its activities and provides psychosocial support to those who are mentally disturbed or at risk of mental disturbance. To gratify the social element within the psychosocial support, the organization also focuses on promoting and protection of human rights. Further details regarding SUKOON as a psychosocial approach and Sukoon as an organization can be obtained through the other portions of this website.
|
![]() |
|
I know everything; including nothing. |
|
|
|
Husain was born in 1976 in Peshawar i.e. the provincial capital of North West Frontier Province of Pakistan. He had all his education from the same city and did an M.Sc. in Psychology from the Department of Psychology, University of Peshawar in 1997. Later, he did an M.Phil. in 2005. Clinical Psychology was the area of specialization for him in both these academic degrees, hence, he prefers to be known as a "general" Psychologist. He is a Ph.D. fellow at present in the same institution. He is a member of the British Psychological Society, Pakistan Psychological Association and Society for the Advancement of Muslim Psychology.
Husain’s life is full of rich experiences that are mostly spiritual and thought provoking. He holds a strong and innate power of thinking creatively. He believes that each and every action performed by humans contains a sufficient reason and reflects self-recognition. Ideologies are formed both consciously and unconsciously and develop an outer self or personality which most of us live with. The inner-self, however, needs to be discovered and activated to gratify the purpose of life and to bring satisfaction. The most innovative thought of Husain is that Mind and Soul both are the same; two different names given to the same thing. Psychology, as the name suggests, is the knowledge of soul; which is the same name for mind. He further elaborates that the entire mind is not necessarily situated within brain; it flows within the entire body. Conscious is associated with brain, emotions with heart and the subconscious and unconscious with the body overall. Mind, once created, never dies and affiliates itself with the real self through the ideal self; when the body is not available or denied. He strongly believes in the usage of hidden senses in mental / spiritual growth. Wisdom, according to him, starts when a person realizes that he knows nothing and the real life starts when a person realizes that he is nothing.
Husain is a multi-dimensional person. This part of Sukoon’s website intends to briefly inform the audience about his life, academics, professional assignments, innovative thoughts and poetry. Most of further details can be found on the other parts of this website; especially on the “Psycho-Philosophy” which is currently under construction. Enquiries are welcomed at info@thesukoon.org
|
|
Following is one of the interviews of Husain taken by a newspaper. This brief interview would help the readers to explore him more; especially in Urdu. تعارف: جناب وقار حسین کی شخصیت ہمہ جہت پہلوئوں سے آراستہ ہے۔ آپ بنیادی طور پر ایک کلاسیکل شاعر اور ایک تخلیقی نفسیات دان کے روپ میں ابھر کر سامنے آئے ہیں۔ آپ پاکستان میں ایک غیر سرکاری تنظیم "سکون" کے بانی اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہیں۔ ہمارے ان سے انٹرویو کا بنیادی مقصد ان سے ان کاموں کے بارے میں دریافت کرنا ہے جو ان کی ذات یا ان کے ادارے کی بدولت عوام الناس کے لیے فائدہ مند ہو سکتے ہیں تاکہ ہمارے قارئین کو بنیادی معلومات حاصل ہو سکیں۔ سوال:اپنی تعلیم اور تجربے کے بارے میں مختصراً بتائیے! جواب: بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ۔ اگر دانا بود نادان من آن دانائے نادانم ۔ میری تعلیم اور تجربے کا محور نفسیات ہی ہے۔ کلینکل سائیکالوجی میں ایم ایس سی اور ایم فل کرنے کے بعد آجکل پی ایچ ڈی فیلو ہوں۔ عرصہ نو سال سے مختلف حوالوں سے نفسیات کی ترویج اور فروغ کے لیے کام کر رہا ہوں جس کا نتیجہ سکون کو ایک ادارے کی شکل میں متعارف کروانا ہے۔ سوال: سکون کیا ہے؟ جواب: سکون بنیادی طور پر ایک نفسیاتی فلسفہ ہے جسے انگریزی میں Sensory & Ultimate Knowledge On Observing Nature اور اردو میں"سلامتی کے لیے وجدانی نفسیات"کے ناموں سے موسوم کیا گیا ہے۔ اس فلسفے کی بنیادی روح کے مطابق جو شخص فطرت سے جتنا قریب ہو گا اتنا ہی نفسیاتی عوارض اور سماجی مسائل سے دور ہو گا۔ ہے دل کے لیے موت مشینوں کی حکومت ، احساس مروت کو کچل دیتے ہیں آلات۔ باالفاظ دیگر جو شخص فطرت سے جتنا دور ہو گا اتنا ہی نفسیاتی اور سماجی مسائل میں گرفتار ہو گا۔ سکون کے مطابق فطرت سے ہر وہ شے مراد ہے جو اللہ نے تخلیق کی ہے اور غیر فطرت سے مراد ہر وہ شے ہے جو انسان نے تخلیق کی ہے۔ ہمارے موجودہ مشینی دور میں اکثر دیکھنے میں آتا ہے کہ انسان اور مشین میں فرق کم سے کم ہوتا چلا جا رہا ہےاور آدمی اپنے ذہنی اور روحانی ارتقاء کو پس پشت ڈال کر صرف مادی ترقی ہی کو اپنا مطمع نظر سمجھ بیٹھا ہے۔ سکون کے مطابق ہمارے معاشرے میں نفسیاتی اور سماجی مسائل کی دو بڑی وجوہات فطرت سے دوری اور ہوس ہیں۔ سکون انسان کو فطرت سے قریب تر لانے کے لیے مختلف نفسیاتی طریقے وضع کرتا ہے جن میں نفسیاتی تزکیے اور مشقیں بھی شامل ہیں۔ سکون کا فلسفہ ذہن اور روح کو ایک ہی شے مانتا ہے۔ مزید برآں ذہن کو صرف دماغ تک ہی محدود تصور نہیں کیا جاتا بلکہ اسے سارے بدن کا حصہ مانا جاتا ہے۔ سکون کے اس فلسفے کی رو سے ذہن ایک بار پیدا ہونے کے بعد کبھی نہیں مرتا بلکہ مختلف حالتوں میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ معاشرے سے نفسیاتی اور سماجی مسائل کے حل کے لیے سکون بحیثیت ایک سماجی تنظیم بھی کام کر رہی ہے۔ ہماری بنیادی نفسیاتی خدمات بالکل مفت دستیاب ہیں۔ سکون کے نفسیاتی کلینک مختلف شہروں میں سکون کلب کے ممبران اور عوام الناس کے لیے موجود ہیں۔ سکون نے پہلی دفعہ نفسیاتی صحت کا بیمہ بھی متعارف کروایا ہے جو کسی شخص کی درست نفسیاتی صحت کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔ سوال: تو کیا اس کا یہ مطلب لیا جائے کہ سکون سے ہر وہ شخص فائدہ اٹھا سکتا ہے جو نفسیاتی بیماریوں میں مبتلا ہے؟ جواب: ہرگز نہیں، نفسیات صرف پاگلوں اور نفسیاتی امراض میں مبتلا افراد ہی کے لیے فائدہ مند نہیں بلکہ ہر آدمی کو اس کے ذہنی اور روحانی ارتقاء کے حصول اور نفسیاتی بیماریوں سے بچائو میں بھی مدد فراہم کرتی ہے۔ سکون کے نفسیاتی تزکیے ذہنی بیماریوں سے بچائو کے لیے بہترین حفاظتی اقدام ہیں۔ نفسیاتی بیماریوں سے قطع نظر ، سکون مختلف کورسز بھی پیش کرتا ہے جو نفسیاتی معلومات میں اضافے کا باعث بنتےہیں اور آدمی کو اپنی ذات کے بارے میں جاننے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔ سوال: آپ نے نفسیات میں کیا نئی ایجادات کی ہیں؟ جواب: میں نے روح اور ذہن کو ایک قراردیا اور یہ بتایا کہ ذہن صرف دماغ تک ہی محدود نہیں بلکہ سارے بدن میں حلول کیے ہوئے ہے۔ ذہن کبھی نہیں مرتا مگر مختلف حالتوں میں تبدیل ہو جا تا ہے۔ سکون نفسیات میں ایک کلینکل ماڈل کے طور پر پیش کیا گیا ہےجس میں نفسیاتی عوارض کی وجوہات یعنی سائیکوپیتھالوجی کے ساتھ ساتھ ان کے حل کے لیے نئے طریقے یعنی سائیکو تھراپیز بھی متعارف کروائی گئی ہیں۔ ان نئی تھراپیز میں سکون کے لائف ہیلنگ سیشنز اور سائیکو تھراپی تھرو باڈیلی کرنٹ وغیرہ شامل ہیں۔ سکون کا نفسیاتی صحت کا بیمہ بھی ایک نئی ایجاد ہےجو آدمی کی مناسب نفسیاتی صحت کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔ سائیکو سوشل انٹرپرائز ڈویلپمنٹ دیہات کی سطح پر نفسیاتی خدمات فراہم کرنے کے لیے نئی ایجاد ہے۔ ان کے علاوہ اور بھی بہت سے نئے خیالات اور طریقے متعارف کروائے گئے ہیں جن کی تفصیل ہماری ویب سائٹ پر موجود ہے۔ سوال: آپ ہمارے قارئین کو ایک صحت مند نفسیاتی ذندگی گزارنے کے لیے کیا مشورہ دینا چاہیں گے؟ جواب: فطرت کو سمجھا جائے اور اس سے قریب تر رہا جائے۔ ہوس کو تعمیری سرگرمیوں میں استعمال کیا جائے تاکہ خود غرضی کا خاتمہ ہو سکے۔ اپنی اندرونی ذات اور اس کے مختلف پہلوئوں کو حواس باطنہ کے زریعے سے سمجھنے کی کوشش کی جائےاور اپنا رابطہ اپنی مثالی اور حقیقی ذات سے بحال کیا جائے۔ سوال: آپ سے رابطے کا کیا طریقہ ہے؟ پر موجود ہیں۔ www.thesukoon.org جواب: سکون کے بارے میں تمام تر تفصیلات ہماری ویب سائٹ آپ کے وقت کا بہت شکریہ۔
|
|
About | Ideas | Practice | Articles | Poetry | Contact | Go to Main | The Organization (English) | The Organization (Urdu) | The Philosophy |
|
© 2007 www.thesukoon.org All rights reserved |